Saturday, 13 August 2011

غزل



پسِ مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
اُسے آہ دامنِ باد نے سرِ شام ہی بجھا دیا
مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اُس سے کہنا
وہ جو تیرا عاشقِ زار تھا، تہ خاک اُس کو دبا دیا
دمِ غسل سے مرے پیشتر، اُسے ہمدموں نے یہ سوچ کر
کہیں جاوے نہ اس کا دل دہل مری لاش پر سے ہٹا دیا
مری آنکھ جھپکی تھی ایک پل میرے دل نے چاہا کہ اٹھ کہ چل
دلِ بیقرار نے او میاں! وہیں چٹکی لے کے جگا دیا
میں نے دل دیا، میں نے جان دی! مگر آہ تو نے قدر نہ کی
کسی بات کو جو کبھی کہا، اسے چٹکیوں میں اڑا دی

غزل


مَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مِرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے
میں کِسی کے دستِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کِسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے
مِری روشنی تِرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں، تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دُشمنوں کی خبر نہ تھی ، مجھے دوستوں کا پتہ نہیں
تِری داستاں کوئی اور تھی، مِرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، یہ مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں ،دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

غزل

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا


میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان ِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
احمد فراز

غزل

دشتِ تنہائی میں

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہے
تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اُٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو سے سُلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور اُفق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے ترے دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رُخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے بھی صبحِ فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات

فیض احمد فیض

غزل

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں

کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہت ہوں


علامہ اقبال

غزل

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں
سوچنے کے لیے ایک رات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے

آج کی رات میرا دردِ محبت سُن لے
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سُن لے
آج اظہارِ خیالات کا موقع دے دے

بھلانا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا
بےوفا تُو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھا
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے


=========
قیصرالجعفری

غزل

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی وعدہ یعنی نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر، وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ نئے گلے، وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرُو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیانِ شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہوئے اتفاق سے گر بہم، تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلہء ملامتِ اقربا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کوئی ایسی بات اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مِرے دل سے صاف اتر گئی
تَو کہا کہ جانے مِری بلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

(حکیم مومن خان مومن)

غزل

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

شور برپا ہے خانہء دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی

شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی

تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

ناصر کاظمی

غزل

اجنبی شہر کے اجنبی راستے  
میری تنہائی پر مسکراتے رہے 

میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا

تم بہت دیر تک یاد آتے رہے

زہر ملتا رہے، زہر پیتے رہے

روز مرتے رہے، روز جیتے رہے

زندگی ہمیں آزماتی رہی 

اور ہم بھی اسے آزماتے رہے 

زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا

زندگی کی طرف اک دریچہ کھلا

ہم بھی گویا کسی ساز کی تار ہیں 

چوٹ کھا تےرہے، گنگناتے رہے 

 کل کچھ ایسا ہوا، میں بہت تھک گیا 

اس لئے سن کہ بھی ان سنی کر گیا

کتنی یادوں کہ بھٹکے کارواں

دل کے زخموں کے در کھٹکھٹاتے رہے 

اجنبی شہر کے اجنبی راستے 

میری تنہائی پر مسکراتے رہے

شعر

اقبال بڑا اُپدیشک ہے مَن باتوں میں موہ لیتا ہے 
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا