چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجهـ کو آواره بنا ڈالا
بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یه شہر، کہتے ہیں
یہان پر ہیں ہزاروں گهر، گهروں میں لوگ رہتے ہیں
مجهے اس شهر نے گلیوں کا بنجاره بنا ڈالا
میں اس دنیا کو اکثر دیکهـ کر حیران ہوتا ہوں
نه مجهـ سے بن سکا چهوٹا سا گهر، دن رات روتا ہوں
خدایا تو نے کیسے یه جہاں سارا بنا ڈالا؟
میرے مالک! میرا دل کیوں تڑپتا ہے، سلگتا ہے؟
تیری مرضی، تیری مرضی په کس کا زور چلتا ہے؟
کیسی کو گل، کسی کو تو نے انگاره بنا ڈالا
یہی آغاز تها میرا، یہی انجام ہونا تها
مجهے برباد ہونا تها، مجهے ناکام ہونا تها
مجهے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجهـ کو آواره بنا ڈالا
No comments:
Post a Comment