Friday, 19 August 2011

آبِ حیات


آبِ حیات
کل میں یونہی بیٹھا سوچ وبچار میں مصروف تھا کہ مجھ پر ’’آب حیات‘‘ کی حقیقت منکشف ہو گئی۔ آپ نے بھی یقیناً آب حیات کے بارے میں بہت کچھ سنا ہو گا۔۔۔مگر کچھ لوگ تو اس کو افسانوی اختراع سمجھ کر اس کی حقیقت سے انکاری ہیں ۔ اور کچھ اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں ۔ویسے بھی اس کے بارے میں کئی قصے بر زباں زدِ خاص و عام ہیں۔ جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے آبِ حیات پی رکھا ہے۔ اور یہ قصہ بھی معروف بہ اہل زباں ہے کہ خضر علیہ السلام اور سکندر دونوں مل کر آبِ حیات کی تلاش میں نکلے ۔ اور پھر آخر کار خضر علیہ السلام نے آب حیات کا کنواں ڈھونڈھ لیا۔ اور اس میں سے پانی پی لیا مگر سکندر کو اس کی خبر نہ دی۔۔۔ اسی لئے غالب کہتا ہے 
کیا کیا خضر نے سکندر سے 
اب کسے رہنما کرے کوئی
خیر یہ تو ٹھہرے قصے کہانیاں۔ اصل حقیقت تو کل ہی مجھ پر عیاں ہوئی۔
کل ایسے ہی میرے ذہن میں ایک خیال اُبھرا کہ آب حیات کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی حقیقت بھی ہے یا کہ یہ صرف ایک افسانوی اختراع ہے۔میں نے اس نقطہ پر مزید سوچ بچار کی تو مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ ’’آب حیات‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ پانی یا جام جسے پی کر انسان ہمیشہ کے لئے زندہ رہ سکے ۔ تو ایسا پانی اور جام تو صرف ایک ہی ہے ۔ جسے پی کر انسان ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے۔۔۔ اور وہ ہے ۔۔’’جامِ شہادت‘‘ جو شخص بھی یہ جام پیتا ہے وہ حیاتِ جاوداں کو پا لیتا ہے ۔۔ اور دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب کو فنا ہے ۔ کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لئے نہیں ۔ مگر یہ جام ، یعنی ’’جامِ شہادت‘‘ جو شخص پی لیتا ہے وہ فنا سے نکل کر بقا کی راہ کا راہی بن جاتا ہے ۔ اور ہمارا قرآن بھی اس پر شاہد ہے ۔ کہ اللہ کا ارشاد ہے ۔۔۔۔
‘‘اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل (شہید)کئے جائیں انہیں مردہ مت کہو ،بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کی خبر نہیں۔۔۔’’
اور یہ صرف مسلمانوں پر اللہ کا خاص فضل ہے کہ جس نے انہیں ’’آبِ حیات ‘‘ جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ جام پینے کی توفیق نصیب فرمائے۔۔۔

Saturday, 13 August 2011

تم کو کیسے کہوں پھر، میں آزادی مبارک


غزل

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
یہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوئے پرائے ہیں
مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں‌کے سائے ہیں
تعارف روگ ہو جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ‌دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

غزل

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا
اس دل کے دريدہ دامن میں، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا
شب بيتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجير پڑی دروازے پہ
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کيا
پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کریں
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

غزل

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے

غزل

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا

غزل


اے عشق نہ  چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم  بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ، تو  اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ ، یہ تازہ ستم  ایجاد نہ  کر
یوں ظلم نہ کر، بیداد  نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ  کر
جس دن سے  ملے  ہیں  دونوں  کا، سب  چین گیا، آرام گیا
چہروں سے بہار صبح گئی، آنکھوں سے فروغ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا، ہونٹوں سے ہنسی  کا نام گیا
غمگیں نہ بنا،  ناشاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کر تے ہیں
آنکھوں میں تصور، دل میں خلش، سر دھنتے ہیں آہیں بھرتےہیں
اے عشق! یہ کیسا روگ لگا، جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں؟
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
یہ روگ لگا ہے جب  سے  ہمیں، رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہر  وقت  خلش بے خواب ہوں میں،بیدار ہے وہ
جینے سے  ادھر بیزار ہوں میں،  مرنے  پہ ادھر تیار ہے وہ
اور ضبط  کہے  فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے بندھا  ہے دھیان ترا، گھبرائےہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر  کر  کے شرمائے  ہوئے  سے رہتے  ہیں
کملائے ہوئے پھولوں  کی طرح  کملائے ہوئے سے رہتے ہیں
پامال  نہ کر، برباد نہ  کر
اے عشق  ہمیں  برباد نہ کر
بیددر!  ذرا  انصاف تو  کر! اس عمر میں اور مغموم  ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی ، تاروں  کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن ، ستم! یہ رنج، غضب! مجبور ہوں میں! مظلوم ہے وہ
مظلوم  پہ  یوں  بیداد  نہ  کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر
اے  عشق خدارا دیکھ کہیں ، وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ  ہو، وہ  زہرہ جبیں بدنام نہ  ہو
ناموس کا اس  کے  پاس  رہے،  وہ پردہ نشیں  بدنام نہ ہو
اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد  نہ  کر
امید کی جھوٹی جنت کے، رہ  رہ  کے  نہ  دکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت  کے، وعدوں  سے نہ کر بیتاب  ہمیں
کہتا ہے  زمانہ  جس کو خوشی ، آتی  ہے نظر کمیاب ہمیں
چھوڑ ایسی خوشی کویادنہ کر
اے  عشق  ہمیں برباد نہ کر
کیا سمجھےتھےاور تو کیا نکلا، یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے  پہل کا  تجربہ  اور کم عمر ہیں ہم،  انجان ہیں ہم
اے عشق ! خدارا رحم و کرم! معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم
نادان  ہیں  ہم، ناشاد نہ  کر
اے عشق ہمیں برباد  نہ کر
وہ راز ہے یہ غم آہ جسے، پا  جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سےجب آنسو بہتے ہیں، آجائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ  دنیا، دل کو یہاں، بھا جائے کوئی تو  خیر نہیں
ہے ظلم مگر  فریاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر
دو دن  ہی میں عہد طفلی  کے، معصوم زمانے بھول گئے
آنکھوں سےوہ خوشیاں مٹ سی گئیں، لب کووہ ترانےبھول گئے
ان  پاک بہشتی خوابوں  کے،  دلچسپ فسانے بھول گئے
ان خوابوں سے یوں آزادنہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اس جان حیا  کا بس نہیں کچھ، بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر، جو  پیار  یہاں آپس میں ہے
ہے  بے بسی زہر  اور  پیار ہے  رس، یہ زہر چھپا اس رس میں ہے
کہتی ہے حیا  فریاد  نہ  کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر
آنکھوں کو  یہ  کیا آزار ہوا ، ہر  جذب نہاں پر رو دینا
آہنگ  طرب پر جھک جانا، آواز فغاں  پر  رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا، مطرب کے  بیاں پر رو دینا
احساس کو غم بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
ہر دم ابدی راحت  کا سماں  دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ حباب  آب رواں  پر  نقش بقا تحریر نہ  کر
مایوسی کے رمتے بادل  پر  امید کے گھر تعمیر نہ  کر
تعمیر نہ کر، آباد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر
جی چاہتا ہے اک دوسرے کو  یوں  آٹھ  پہر ہم  یاد  کریں
آنکھوں  میں  بسائیں خوابوں کو، اور دل میں خیال آباد کریں
خلوت میں بھی ہوجلوت کاسماں، وحدت کودوئی سےشادکریں
یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
دنیا کا  تماشا  دیکھ  لیا، غمگین  سی ہے ، بے  تاب سی ہے
امید یہا ں اک وہم سی ہے‘ تسکین یہاں اک خواب  سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں‘ دنیا میں خوشی نایاب  سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں  برباد نہ کر

غزل

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پے نام لکھنا
ھمیں بھی ھے یاد آج تک وہ، نظر سے حرفِ سلام لکھنا

وہ جاند چہرے، وہ بہکی باتیں، سلگتے دن تھے، سلگتی راتیں
...وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پے محبتوں کے پیام لکھنا

گلاب چہروں سے دل لگانا، وہ چپکے چپکے نظر ملانا
وہ آرزُوؤں کے خواب بُننا، وہ قصہءِ نا تمام لکھنا

میرے نگر کی حسیں فضاؤ، کہیں جو اُن کا نشان پاؤ
تو پوچھنا کہ کہاں بسے وہ، کہاں ھے اُن کا قیام لکھنا

گئی رتوں میں حسن ھمارا، بس ایک یہ ھی تو مشغلہ تھا
کسی کے چہرتے کو صبح کہنا، کسی کی زلفوں کو شام لکھنا۔۔۔۔

غزل

تمہارے خط مـیں نیا ایک سلام کس کا تهـا؟
نه تهـا رقیب کا، آخر وه نام کس کا تهـا؟
رہا نه دل مـیں وه بیدرد، اور درد رهـا
مقیم کـون ہوا، اور مقام کس کا تهـا؟
وفا کـریں گے، نبهـائیں گے، بات مـانیں گے
تمہیں بهی یاد ہوگا یه کلام کس کا تهـا؟
گـذر گیا وه زمـانه، کہیں تو کس سے کہیں
خیال دل مـیں مـیرے صبح و شـام کس کا تهـا؟
وه قتل کـر مجهے ہر کسـی سے پوچـهتے ہے
یه کام کس نے کیا، یه کام کس کا تهـا؟
تمـام بزم جسے سـن کے ره گئی مشـتاق
کہـو وه تذکـره ناتمـام کس کا تهـا؟
نه پوچـهـ پاچ کسـی کے تهے وہاں، نه آو بهگت
تمہارے بزم مـین کل اہتمـام کس کا تهـا؟
ہمـارے خط کے تو پرزے کئی پڑهـا بهی نہیں
سـنا جو تو نے به دل وه پیام کس کا تهـا؟
اسـی صفات سے ہوتا ہے آدمـی مشهـور
جو لطف آپ ہی کـرتے ہین تو نام کس کا تهـا؟
ہر ایک سے کہتے ہے که "داغ" بیوفا نکلا
یه پوچـهے ان سے کـوئی، وه غلام کس کا تهـا

غزل


چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجهـ کو آواره بنا ڈالا

بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یه شہر، کہتے ہیں
یہان پر ہیں ہزاروں گهر، گهروں میں لوگ رہتے ہیں
مجهے اس شهر نے گلیوں کا بنجاره بنا ڈالا

میں اس دنیا کو اکثر دیکهـ کر حیران ہوتا ہوں
نه مجهـ سے بن سکا چهوٹا سا گهر، دن رات روتا ہوں
خدایا تو نے کیسے یه جہاں سارا بنا ڈالا؟

میرے مالک! میرا دل کیوں تڑپتا ہے، سلگتا ہے؟
تیری مرضی، تیری مرضی په کس کا زور چلتا ہے؟
کیسی کو گل، کسی کو تو نے انگاره بنا ڈالا

یہی آغاز تها میرا، یہی انجام ہونا تها
مجهے برباد ہونا تها، مجهے ناکام ہونا تها
مجهے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجهـ کو آواره بنا ڈالا